تاریخِ انسانیت میں کئی ایسی قومیں گزری ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا، لیکن جب انہوں نے غرور، نافرمانی اور ناشکری کا راستہ اختیار کیا تو ان کا انجام تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔ انہی قوموں میں ایک مشہور اور خوشحال قوم قوم سبا بھی تھی۔
یہ قوم جنوبی عرب یعنی موجودہ یمن کے علاقے میں آباد تھی۔ اپنے زمانے میں یہ قوم ترقی، خوشحالی اور طاقت کے لحاظ سے بہت مشہور تھی۔ ان کے علاقے سرسبز و شاداب تھے، تجارت عروج پر تھی اور زندگی کی ہر سہولت انہیں میسر تھی۔
لیکن جب انسان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور سرکشی اختیار کرتا ہے تو نعمتیں زوال میں بدل جاتی ہیں۔ قوم سبا کی داستان بھی اسی حقیقت کی ایک بڑی مثال ہے۔
قرآن مجید میں قوم سبا کا ذکر خاص طور پر سورۃ سبا اور سورۃ النمل میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی خوشحالی کو ایک نشانی قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ
(سورۃ سبا: 15)
ترجمہ:
"سبا والوں کے لیے ان کی بستی میں ایک نشانی تھی۔ دو باغ دائیں اور بائیں طرف تھے۔ اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ یہ ایک پاکیزہ شہر تھا اور رب بڑا بخشنے والا تھا۔"
یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو نہایت خوبصورت اور زرخیز علاقہ عطا فرمایا تھا۔
مفسرین کے مطابق سبا دراصل ایک شخص کا نام تھا جو اس قوم کا جدِ امجد تھا۔ بعد میں اسی کے نام پر پوری قوم کو "سبا" کہا جانے لگا۔
یہ قوم یمن کے مشہور شہر مارب کے علاقے میں آباد تھی۔ یہاں انہوں نے ایک عظیم الشان بند تعمیر کیا جسے سدِ مارب کہا جاتا تھا۔
یہ بند اپنے زمانے کی انجینئرنگ کا حیرت انگیز نمونہ تھا۔ اس بند کے ذریعے پانی کو محفوظ کیا جاتا تھا اور پھر اس سے وسیع زرعی زمینوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ اس علاقے کی زمین اتنی زرخیز تھی کہ درختوں پر پھلوں کی بھرمار ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص درختوں کے نیچے سے گزرتا تو پھل خود بخود گر جاتے۔
تجارتی اعتبار سے بھی یہ قوم بہت ترقی یافتہ تھی۔ یمن کا علاقہ قدیم زمانے میں مشرق اور مغرب کے درمیان تجارتی راستوں کا اہم مرکز تھا۔ قوم سبا خوشبو، مصالحہ جات اور قیمتی اشیاء کی تجارت کے لیے مشہور تھی۔
قوم سبا کا سب سے مشہور واقعہ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کے ساتھ پیش آیا، جس کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ النمل میں ملتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایک خاص معجزہ عطا فرمایا تھا کہ وہ پرندوں اور جانوروں کی زبان سمجھ سکتے تھے۔
ایک دن ان کے لشکر میں موجود ہدہد پرندہ کچھ دیر کے لیے غائب ہو گیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے ایک حیرت انگیز خبر سنائی کہ وہ سبا کے علاقے سے ہو کر آیا ہے جہاں ایک ملکہ حکومت کرتی ہے۔
ہدہد نے بتایا:
> وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّهِ
(سورۃ النمل: 24)
ترجمہ:
"میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔"
Also read Malika Bilqis Ka Waqia
یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کو ایک خط لکھا جس میں انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی گئی۔
خط میں لکھا تھا:
> إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ
(سورۃ النمل: 30-31)
ترجمہ:
"یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہوتا ہے۔ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آ جاؤ۔"
ملکہ بلقیس نے معاملے کو سمجھداری سے لیا۔ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوئیں اور اللہ کی قدرت کے معجزات دیکھ کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
انہوں نے کہا:
> رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
(سورۃ النمل: 44)
اللہ تعالیٰ نے قوم سبا کو بے شمار نعمتیں عطا کی تھیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ ان نعمتوں کی قدر کرنا بھول گئے۔ ان میں غرور اور ناشکری پیدا ہو گئی۔
قرآن مجید میں ذکر ہے کہ انہوں نے اللہ سے عجیب خواہش ظاہر کی کہ ہمارے سفروں کے درمیان فاصلے زیادہ کر دیے جائیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ
(سورۃ سبا: 19)
یہ دراصل ان کی ناشکری اور تکبر کی علامت تھی۔
جب قوم سبا نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی تو ان پر ایک سخت عذاب نازل ہوا جسے سیل العرم کہا جاتا ہے۔
یہ ایک خوفناک سیلاب تھا جس نے ان کے مشہور بند سد مارب کو توڑ دیا۔ بند ٹوٹنے کے بعد پانی کا ایک زبردست ریلا آیا جس نے ان کے باغات، کھیت اور بستیاں تباہ کر دیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ
(سورۃ سبا: 16)
اس تباہی کے بعد قوم سبا مختلف علاقوں میں بکھر گئی اور ان کی عظیم تہذیب ختم ہو گئی۔
اللہ تعالیٰ نے اس قوم سے صرف شکر کا مطالبہ کیا تھا۔ جب انہوں نے ناشکری کی تو نعمتیں ختم ہو گئیں۔
دولت، طاقت اور خوشحالی اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہیں۔
جب قومیں غرور میں مبتلا ہو جائیں تو ان کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔
ملکہ بلقیس کا واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ انسان جب چاہے حق کو قبول کر سکتا ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکمت اور نرمی سے دعوت دی، جو ہمیں بھی یہی سبق دیتی ہے۔
Khulasa
قوم سبا کی کہانی قرآن مجید کی ایک ایسی عبرت آموز داستان ہے جو ہر زمانے کے انسان کو نصیحت کرتی ہے۔
ان کی خوشحالی، ترقی، پھر ناشکری اور آخرکار تباہی — یہ سب ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ
(سورۃ ابراہیم: 7)
یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں نعمتیں اور بڑھا دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
Follow me on Facebook. Zube