Skip to main content

Qaum Saba Ka Waqia

 

Qaum Saba


Qaum Saba - Quran ki Roshni mein aik Ibratnak Waqia

تاریخِ انسانیت میں کئی ایسی قومیں گزری ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا، لیکن جب انہوں نے غرور، نافرمانی اور ناشکری کا راستہ اختیار کیا تو ان کا انجام تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔ انہی قوموں میں ایک مشہور اور خوشحال قوم قوم سبا بھی تھی۔


یہ قوم جنوبی عرب یعنی موجودہ یمن کے علاقے میں آباد تھی۔ اپنے زمانے میں یہ قوم ترقی، خوشحالی اور طاقت کے لحاظ سے بہت مشہور تھی۔ ان کے علاقے سرسبز و شاداب تھے، تجارت عروج پر تھی اور زندگی کی ہر سہولت انہیں میسر تھی۔


لیکن جب انسان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور سرکشی اختیار کرتا ہے تو نعمتیں زوال میں بدل جاتی ہیں۔ قوم سبا کی داستان بھی اسی حقیقت کی ایک بڑی مثال ہے۔


Quran Majeed mein Qaum Saba ka Zikr


قرآن مجید میں قوم سبا کا ذکر خاص طور پر سورۃ سبا اور سورۃ النمل میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی خوشحالی کو ایک نشانی قرار دیا ہے۔


اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:


> لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ

(سورۃ سبا: 15)


ترجمہ:

"سبا والوں کے لیے ان کی بستی میں ایک نشانی تھی۔ دو باغ دائیں اور بائیں طرف تھے۔ اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ یہ ایک پاکیزہ شہر تھا اور رب بڑا بخشنے والا تھا۔"


یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو نہایت خوبصورت اور زرخیز علاقہ عطا فرمایا تھا۔



Qaum Saba ka Tarikhi aur Jughrafiyai Pas Manzar


مفسرین کے مطابق سبا دراصل ایک شخص کا نام تھا جو اس قوم کا جدِ امجد تھا۔ بعد میں اسی کے نام پر پوری قوم کو "سبا" کہا جانے لگا۔


یہ قوم یمن کے مشہور شہر مارب کے علاقے میں آباد تھی۔ یہاں انہوں نے ایک عظیم الشان بند تعمیر کیا جسے سدِ مارب کہا جاتا تھا۔


یہ بند اپنے زمانے کی انجینئرنگ کا حیرت انگیز نمونہ تھا۔ اس بند کے ذریعے پانی کو محفوظ کیا جاتا تھا اور پھر اس سے وسیع زرعی زمینوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔


مفسرین لکھتے ہیں کہ اس علاقے کی زمین اتنی زرخیز تھی کہ درختوں پر پھلوں کی بھرمار ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص درختوں کے نیچے سے گزرتا تو پھل خود بخود گر جاتے۔


تجارتی اعتبار سے بھی یہ قوم بہت ترقی یافتہ تھی۔ یمن کا علاقہ قدیم زمانے میں مشرق اور مغرب کے درمیان تجارتی راستوں کا اہم مرکز تھا۔ قوم سبا خوشبو، مصالحہ جات اور قیمتی اشیاء کی تجارت کے لیے مشہور تھی۔



Malika Bilqees aur Hazrat Sulaiman علیہ السلام ka Waqia


قوم سبا کا سب سے مشہور واقعہ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کے ساتھ پیش آیا، جس کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ النمل میں ملتا ہے۔


اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایک خاص معجزہ عطا فرمایا تھا کہ وہ پرندوں اور جانوروں کی زبان سمجھ سکتے تھے۔


ایک دن ان کے لشکر میں موجود ہدہد پرندہ کچھ دیر کے لیے غائب ہو گیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے ایک حیرت انگیز خبر سنائی کہ وہ سبا کے علاقے سے ہو کر آیا ہے جہاں ایک ملکہ حکومت کرتی ہے۔


ہدہد نے بتایا:


> وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّهِ

(سورۃ النمل: 24)


ترجمہ:

"میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔"


Also read Malika Bilqis Ka Waqia


یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کو ایک خط لکھا جس میں انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی گئی۔


خط میں لکھا تھا:


> إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ

(سورۃ النمل: 30-31)


ترجمہ:

"یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہوتا ہے۔ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آ جاؤ۔"


ملکہ بلقیس نے معاملے کو سمجھداری سے لیا۔ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوئیں اور اللہ کی قدرت کے معجزات دیکھ کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔


انہوں نے کہا:


> رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

(سورۃ النمل: 44)


Qaum Saba ki Na Shukri


اللہ تعالیٰ نے قوم سبا کو بے شمار نعمتیں عطا کی تھیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ ان نعمتوں کی قدر کرنا بھول گئے۔ ان میں غرور اور ناشکری پیدا ہو گئی۔


قرآن مجید میں ذکر ہے کہ انہوں نے اللہ سے عجیب خواہش ظاہر کی کہ ہمارے سفروں کے درمیان فاصلے زیادہ کر دیے جائیں۔


اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:


> فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ

(سورۃ سبا: 19)


یہ دراصل ان کی ناشکری اور تکبر کی علامت تھی۔


Seil-ul-Arim - Allah ka Azaab


جب قوم سبا نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی تو ان پر ایک سخت عذاب نازل ہوا جسے سیل العرم کہا جاتا ہے۔


یہ ایک خوفناک سیلاب تھا جس نے ان کے مشہور بند سد مارب کو توڑ دیا۔ بند ٹوٹنے کے بعد پانی کا ایک زبردست ریلا آیا جس نے ان کے باغات، کھیت اور بستیاں تباہ کر دیں۔


اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:


> فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ

(سورۃ سبا: 16)


اس تباہی کے بعد قوم سبا مختلف علاقوں میں بکھر گئی اور ان کی عظیم تہذیب ختم ہو گئی۔


Qaum Saba ke Waqia se Milne Wali Ibrat


1۔ Shukar ki Ahmiyat


اللہ تعالیٰ نے اس قوم سے صرف شکر کا مطالبہ کیا تھا۔ جب انہوں نے ناشکری کی تو نعمتیں ختم ہو گئیں۔


2۔ Naimatein Imtehan Hoti Hain


دولت، طاقت اور خوشحالی اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہیں۔


3۔ Takabbur Tabahi ka Sabab Banta Hai


جب قومیں غرور میں مبتلا ہو جائیں تو ان کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔


4۔ Hidayat Kabhi Bhi Mil Sakti Hai


ملکہ بلقیس کا واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ انسان جب چاہے حق کو قبول کر سکتا ہے۔


5۔ Daawat-e-Haq ka Tariqa


حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکمت اور نرمی سے دعوت دی، جو ہمیں بھی یہی سبق دیتی ہے۔


Khulasa


قوم سبا کی کہانی قرآن مجید کی ایک ایسی عبرت آموز داستان ہے جو ہر زمانے کے انسان کو نصیحت کرتی ہے۔


ان کی خوشحالی، ترقی، پھر ناشکری اور آخرکار تباہی — یہ سب ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔


اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:


> لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ

(سورۃ ابراہیم: 7)


یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں نعمتیں اور بڑھا دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔


اللہ تعالیٰ ہمیں شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

Follow me on Facebook. Zube

Comments

Popular posts from this blog

Sultan Mehmood Ghaznavi RA Ka Waqia

Sultan Mehmood Ghaznavi RA Ka Waqia | Durood-e-Mahmoodiya Ki Fazilat سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ اسلامی تاریخ کے ایک عظیم حکمران گزرے ہیں، جن کا نام بہادری، عدل اور دین سے محبت کی وجہ سے آج بھی روشن ہے۔ آپ ۳۶۱ ہجری میں غزنی (موجودہ افغانستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سبکتگین ایک نامور سپہ سالار تھے، جنہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے ایک مضبوط سلطنت قائم کی۔ سلطان محمود نے ۳۸۸ ہجری میں حکومت سنبھالی اور طویل عرصہ حکمرانی کی۔ آپ نے برصغیر میں کئی مہمات کیں اور اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن آپ کی اصل پہچان صرف ایک فاتح کی نہیں بلکہ ایک نیک، عبادت گزار اور عاشقِ رسول ﷺ کی تھی۔ آپ کے دربار میں بڑے بڑے علماء اور دانشور موجود تھے، اور آپ علم و ادب کے بھی قدردان تھے۔ غرباء کی مدد کرنا اور عدل قائم رکھنا آپ کی زندگی کا اہم حصہ تھا۔ Durood-e-Mahmoodiya Kya Hai? سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ایک خاص درود شریف منسوب ہے جسے الصلوٰۃ المحمودیہ کہا جاتا ہے۔ اسے بعض علماء "دس ہزار درود" بھی کہتے ہیں کیونکہ روایت کے مطابق اس کا ایک مرتبہ پڑھنا دس ہزار م...

Ashab-e-Sabt Ka Waqia - Bani Israel Par Allah Ka Azaab

  Ashab-e-Sabt Ki Ibratnaak Kahani یہ ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت تھی۔ اللہ نے انہیں بھوک سے محفوظ رکھا، خوف سے بچایا اور دشمنوں سے نجات دی۔ ہر مشکل میں انہیں اللہ کی مدد کا احساس ہوتا تھا۔ لیکن کبھی کبھی انسان نعمتوں کی قدر کرنا بھول جاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو ایک چھوٹا سا امتحان دیا۔ امتحان بظاہر آسان تھا، مگر اصل میں ایمان اور صبر کی آزمائش تھا۔ لیکن اس قوم نے سوچا: “ہم اللہ کے حکم کو تو نہیں توڑیں گے… بس تھوڑی سی چالاکی سے اپنا فائدہ نکال لیں گے۔” انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہی چالاکی ان کی تباہی کا سبب بننے والی ہے۔ Samandar Ke Kinare Aabad Shehar حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی ایک جماعت سمندر کے کنارے ایک خوبصورت شہر ایلہ میں آباد تھی۔ یہ شہر نہایت دلکش تھا۔ سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں، لہروں کی آواز اور نرم دھوپ اس جگہ کو جنت جیسا بنا دیتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتیں عطا کر رکھی تھیں۔ وہ اللہ کو جانتے تھے، اس کے احکام سے واقف تھے اور عبادت بھی کرتے تھے۔ لیکن ان کے دلوں میں ایک کمزوری تھی۔ وہ وعد...

Shaddad Aur Jannat-e-Iram Ki Waqia

  Shaddad Aur Jannat-e-Iram | Qaum-e-Aad Ka Ibratnaak Anjaam دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی بادشاہ نے اپنی بادشاہت، طاقت اور دولت کے نشے میں اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا تو اس کا انجام ہمیشہ ذلت اور تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔ ایسی ہی ایک عبرت ناک کہانی شدّاد اور اس کی قوم عاد کی ہے۔ وہ بادشاہ جس نے اپنی طاقت کے غرور میں آ کر خدائی کا دعویٰ کیا اور دنیا میں جنت بنانے کی کوشش کی۔ شدّاد نے واقعی ایسی جنت بنوائی کہ اسے دیکھ کر انسان کی آنکھیں تھک جائیں اور دل حیرت سے بھر جائے۔ لیکن تقدیر کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ وہ اپنی بنائی ہوئی جنت میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ چند لمحے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا۔ پھر نہ صرف شدّاد بلکہ اس کی بنائی ہوئی مصنوعی جنت اور پوری قومِ عاد زمین کے نیچے دفن کر دی گئی۔ Qaum-e-Aad Ka Taaruf شدّاد اس قوم سے تعلق رکھتا تھا جو اپنے زمانے کی دنیا کی سب سے طاقتور قوم سمجھی جاتی تھی، جسے قومِ عاد کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس جیسی طاقتور قوم نہ اس سے پہلے پیدا کی گئی اور نہ اس کے بعد۔ قومِ عاد احقاف کے علاقے میں آباد تھی۔ احقاف ایک ایسا خطہ ...