Firaun Aur Us Ka Anjaam

Firun ki sarkashi aur uska dardnaak anjaam. Hazrat Musa AS ke waqia ke sath Quran ki roshni me ibratnaak kahani.

 

Firaun Aur Us Ka Anjaam

Firaun Aur Us Ka Anjaam - Quran Ki Roshni Mein


Taaruf


دنیا کی تاریخ میں بہت سے ظالم حکمران گزرے ہیں، لیکن ایک نام ایسا ہے جو تکبر، ظلم اور سرکشی کی علامت بن گیا۔ یہ نام ہے فرعون۔


فرعون مصر کا وہ بادشاہ تھا جس نے اپنی طاقت اور حکومت کے غرور میں آ کر نہ صرف لوگوں پر ظلم کیا بلکہ یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ وہی سب سے بڑا رب ہے۔ اس نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور ان پر سخت ظلم کرتا تھا۔


اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرعون کی سرکشی، اس کے جرائم اور اس کے انجام کو کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے عبرت حاصل کریں۔


Firaun Kon Tha?


"فرعون" دراصل کسی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ قدیم مصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ جیسے روم کے بادشاہوں کو "قیصر" اور ایران کے حکمرانوں کو "کسریٰ" کہا جاتا تھا۔


حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جو فرعون تھا، اس کے بارے میں مؤرخین کی مختلف آراء ہیں۔ کچھ اسے رعمسیس دوم کہتے ہیں جبکہ بعض کے نزدیک وہ منفطاح تھا۔ تاہم قرآنِ کریم نے اس کا نام ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے کردار اور اعمال کو بیان کیا ہے۔


فرعون نے مصر میں ایک ایسا ظالمانہ نظام قائم کر رکھا تھا جس میں اس نے لوگوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا تھا۔ بنی اسرائیل کو اس نے کمزور بنا کر ان سے غلاموں جیسا سلوک کیا۔ ان سے سخت محنت لی جاتی تھی اور ان کی زندگی کو عذاب بنا دیا گیا تھا۔


اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:


﴿إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ﴾

ترجمہ:

"بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور وہاں کے لوگوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو کمزور بنا دیا، ان کے بیٹوں کو قتل کرتا اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ بے شک وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔"


Hazrat Musa (A.S) Ki Mab'oosiyat


جب بنی اسرائیل پر ظلم حد سے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی اور انہیں حکم دیا کہ فرعون کے پاس جائیں اور اسے اللہ کی طرف بلائیں۔


قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:


﴿اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ﴾

ترجمہ:

"فرعون کے پاس جاؤ، بے شک وہ سرکشی میں حد سے بڑھ گیا ہے۔"


حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے دربار میں جا کر اسے توحید کی دعوت دی اور اللہ کے پیغام کو واضح انداز میں پیش کیا۔


اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دو بڑے معجزے عطا فرمائے:


عصا کا اژدہا بن جانا


یدِ بیضاء یعنی ہاتھ کا روشن ہو جانا


یہ معجزات اس بات کی واضح دلیل تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے نبی ہیں۔


Firaun Ka Takabbur Aur Inkaar


فرعون اپنی حکومت اور طاقت کے نشے میں چور تھا۔ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو جادو قرار دیا اور اپنے درباریوں کے مشورے سے پورے ملک کے جادوگروں کو جمع کیا۔


ایک دن بڑا مقابلہ مقرر کیا گیا تاکہ جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شکست دے سکیں۔


جب جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو وہ لوگوں کی نظر میں سانپوں کی طرح رینگنے لگیں۔ لیکن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو وہ حقیقی اژدہا بن گیا اور جادوگروں کے تمام کرتب نگل گیا۔


یہ منظر دیکھ کر جادوگر فوراً سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ کا معجزہ ہے۔


چنانچہ وہ فوراً سجدے میں گر گئے اور اعلان کیا:


"ہم ایمان لائے رب العالمین پر، جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔"


یہ بات سن کر فرعون شدید غضب میں آ گیا اور جادوگروں کو سخت سزا دینے کی دھمکی دی، مگر وہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔


Firaun Par Aane Wale Azaab


اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو بار بار تنبیہ کرنے کے لیے مختلف عذاب نازل فرمائے تاکہ وہ ہوش میں آ جائیں۔


ان عذابوں میں شامل تھے:


شدید طوفان


ٹڈی دل کا حملہ


Read here Shaddad Aur Jannat-e-Iram Ki Waqia


جوئیں اور مختلف کیڑے


مینڈکوں کی بھرمار


پانی کا خون میں تبدیل ہو جانا


قحط سالی اور پیداوار میں کمی


ہر بار جب عذاب آتا تو فرعون حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کرتا اور وعدہ کرتا کہ وہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے گا۔ لیکن جیسے ہی عذاب ٹل جاتا وہ اپنے وعدے سے پھر جاتا۔


Bani Israel Ka Misr Se Nikalna


جب فرعون کسی صورت ہدایت قبول کرنے کو تیار نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔


چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہو گئے۔ صبح جب فرعون کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے ایک بڑا لشکر تیار کیا اور ان کے پیچھے نکل پڑا۔


Darya Ka Mojza (Shaq-e-Bahr)


بنی اسرائیل جب سمندر کے کنارے پہنچے تو پیچھے سے فرعون کا لشکر آتا ہوا نظر آیا۔ لوگ گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ اب ہم ضرور پکڑے جائیں گے۔


لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پورے یقین کے ساتھ فرمایا:


"ہرگز نہیں، میرا رب میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔"


اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا سمندر پر مارا۔ فوراً سمندر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور درمیان میں خشک راستے بن گئے۔


بنی اسرائیل ان راستوں سے گزرتے ہوئے محفوظ طریقے سے دوسری طرف پہنچ گئے۔


Firaun Ka Gharq Hona


جب بنی اسرائیل سمندر پار کر گئے تو فرعون بھی اپنے لشکر کے ساتھ انہی راستوں میں داخل ہو گیا۔


لیکن جیسے ہی وہ سمندر کے درمیان پہنچا، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی دوبارہ اپنی جگہ پر آ گیا اور فرعون سمیت اس کا پورا لشکر غرق ہو گیا۔


ڈوبتے وقت فرعون نے ایمان لانے کا اعلان کیا، مگر اس وقت ایمان لانا کسی فائدے کا نہ تھا کیونکہ وہ موت کے وقت کا ایمان تھا


Firaun Ki Lash Ka Mehfooz Rehna


فرعون کے واقعے میں ایک حیران کن بات یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی لاش کو محفوظ رکھا تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے وہ عبرت کی نشانی بن جائے۔


آج بھی مصر کے شہر قاہرہ کے عجائب گھر میں فرعون کی ممی محفوظ موجود ہے اور یہ قرآن کریم کی اس پیشگوئی کی واضح مثال سمجھی جاتی ہے۔


Is Waqia Se Milne Wale Sabaq


فرعون کی داستان ہمیں کئی اہم سبق دیتی ہے:


تکبر انسان کو تباہی تک پہنچا دیتا ہے


ظلم کبھی ہمیشہ نہیں رہتا


موت کے وقت کی توبہ قبول نہیں ہوتی


اللہ کی قدرت ہر چیز پر غالب ہے


جو شخص اللہ کی نافرمانی اور غرور کے راستے پر چلتا ہے، اس کا انجام بھی فرعون جیسا ہو سکتا ہے۔


اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر اور ظلم سے محفوظ رکھے، حق کو پہچاننے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں قرآن کریم کے واقعات سے صحیح معنوں میں عبرت حاصل کرنے والا بنائے۔


آمین یا رب العالمین


Follow me on Facebook. Zube

Post a Comment