Skip to main content

Posts

Sultan Mehmood Ghaznavi RA Ka Waqia

Sultan Mehmood Ghaznavi RA Ka Waqia | Durood-e-Mahmoodiya Ki Fazilat سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ اسلامی تاریخ کے ایک عظیم حکمران گزرے ہیں، جن کا نام بہادری، عدل اور دین سے محبت کی وجہ سے آج بھی روشن ہے۔ آپ ۳۶۱ ہجری میں غزنی (موجودہ افغانستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سبکتگین ایک نامور سپہ سالار تھے، جنہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے ایک مضبوط سلطنت قائم کی۔ سلطان محمود نے ۳۸۸ ہجری میں حکومت سنبھالی اور طویل عرصہ حکمرانی کی۔ آپ نے برصغیر میں کئی مہمات کیں اور اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن آپ کی اصل پہچان صرف ایک فاتح کی نہیں بلکہ ایک نیک، عبادت گزار اور عاشقِ رسول ﷺ کی تھی۔ آپ کے دربار میں بڑے بڑے علماء اور دانشور موجود تھے، اور آپ علم و ادب کے بھی قدردان تھے۔ غرباء کی مدد کرنا اور عدل قائم رکھنا آپ کی زندگی کا اہم حصہ تھا۔ Durood-e-Mahmoodiya Kya Hai? سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ایک خاص درود شریف منسوب ہے جسے الصلوٰۃ المحمودیہ کہا جاتا ہے۔ اسے بعض علماء "دس ہزار درود" بھی کہتے ہیں کیونکہ روایت کے مطابق اس کا ایک مرتبہ پڑھنا دس ہزار م...

Firaun Aur Us Ka Anjaam

  Firaun Aur Us Ka Anjaam - Quran Ki Roshni Mein Taaruf دنیا کی تاریخ میں بہت سے ظالم حکمران گزرے ہیں، لیکن ایک نام ایسا ہے جو تکبر، ظلم اور سرکشی کی علامت بن گیا۔ یہ نام ہے فرعون۔ فرعون مصر کا وہ بادشاہ تھا جس نے اپنی طاقت اور حکومت کے غرور میں آ کر نہ صرف لوگوں پر ظلم کیا بلکہ یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ وہی سب سے بڑا رب ہے۔ اس نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور ان پر سخت ظلم کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرعون کی سرکشی، اس کے جرائم اور اس کے انجام کو کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے عبرت حاصل کریں۔ Firaun Kon Tha? "فرعون" دراصل کسی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ قدیم مصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ جیسے روم کے بادشاہوں کو "قیصر" اور ایران کے حکمرانوں کو "کسریٰ" کہا جاتا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جو فرعون تھا، اس کے بارے میں مؤرخین کی مختلف آراء ہیں۔ کچھ اسے رعمسیس دوم کہتے ہیں جبکہ بعض کے نزدیک وہ منفطاح تھا۔ تاہم قرآنِ کریم نے اس کا نام ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے کردار اور اعمال کو بیان کیا ہے۔ فرعون نے مصر میں ایک ای...

Qaum Saba Ka Waqia

  Qaum Saba - Quran ki Roshni mein aik Ibratnak Waqia تاریخِ انسانیت میں کئی ایسی قومیں گزری ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا، لیکن جب انہوں نے غرور، نافرمانی اور ناشکری کا راستہ اختیار کیا تو ان کا انجام تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔ انہی قوموں میں ایک مشہور اور خوشحال قوم قوم سبا بھی تھی۔ یہ قوم جنوبی عرب یعنی موجودہ یمن کے علاقے میں آباد تھی۔ اپنے زمانے میں یہ قوم ترقی، خوشحالی اور طاقت کے لحاظ سے بہت مشہور تھی۔ ان کے علاقے سرسبز و شاداب تھے، تجارت عروج پر تھی اور زندگی کی ہر سہولت انہیں میسر تھی۔ لیکن جب انسان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور سرکشی اختیار کرتا ہے تو نعمتیں زوال میں بدل جاتی ہیں۔ قوم سبا کی داستان بھی اسی حقیقت کی ایک بڑی مثال ہے۔ Quran Majeed mein Qaum Saba ka Zikr قرآن مجید میں قوم سبا کا ذکر خاص طور پر سورۃ سبا اور سورۃ النمل میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی خوشحالی کو ایک نشانی قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: > لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْ...