Sultan Mehmood Ghaznavi RA Ka Waqia | Durood-e-Mahmoodiya Ki Fazilat
سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ اسلامی تاریخ کے ایک عظیم حکمران گزرے ہیں، جن کا نام بہادری، عدل اور دین سے محبت کی وجہ سے آج بھی روشن ہے۔ آپ ۳۶۱ ہجری میں غزنی (موجودہ افغانستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سبکتگین ایک نامور سپہ سالار تھے، جنہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے ایک مضبوط سلطنت قائم کی۔
سلطان محمود نے ۳۸۸ ہجری میں حکومت سنبھالی اور طویل عرصہ حکمرانی کی۔ آپ نے برصغیر میں کئی مہمات کیں اور اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن آپ کی اصل پہچان صرف ایک فاتح کی نہیں بلکہ ایک نیک، عبادت گزار اور عاشقِ رسول ﷺ کی تھی۔
آپ کے دربار میں بڑے بڑے علماء اور دانشور موجود تھے، اور آپ علم و ادب کے بھی قدردان تھے۔ غرباء کی مدد کرنا اور عدل قائم رکھنا آپ کی زندگی کا اہم حصہ تھا۔
Durood-e-Mahmoodiya Kya Hai?
سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ایک خاص درود شریف منسوب ہے جسے الصلوٰۃ المحمودیہ کہا جاتا ہے۔ اسے بعض علماء "دس ہزار درود" بھی کہتے ہیں کیونکہ روایت کے مطابق اس کا ایک مرتبہ پڑھنا دس ہزار مرتبہ درود پڑھنے کے برابر ثواب رکھتا ہے۔
سلطان محمود اس درود کو اپنے معمولات میں شامل رکھتے تھے اور اسے بڑے شوق اور محبت سے پڑھا کرتے تھے۔
Imaan Afroz Waqia
ایک دن ایک نوجوان سلطان محمود غزنوی کے دربار میں حاضر ہوا۔ اس نے نہایت عاجزی سے عرض کیا کہ وہ سخت پریشانی میں ہے اور قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
اس نے بتایا کہ اسے خواب میں حضور اکرم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ اس نے بارگاہِ رسالت میں اپنی پریشانی بیان کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“محمود بن سبکتگین کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ میرا قرض ادا کر دیں۔”
نوجوان نے عرض کیا کہ وہ اس بات کا یقین کیسے کریں گے؟ تو آپ ﷺ نے ایک نشانی بتائی کہ
Also read Ashab-e-Sabt Ka Waqia
:
“انہیں کہنا کہ وہ سونے سے پہلے اور جاگنے کے بعد تیس تیس ہزار مرتبہ درود پڑھتے ہیں۔”
جب نوجوان نے یہ پیغام سلطان محمود تک پہنچایا تو وہ سن کر رو پڑے۔ ان پر رقت طاری ہو گئی اور فوراً اس شخص کا قرض ادا کر دیا، بلکہ مزید رقم بھی عطا کی۔
دربار کے لوگ حیران رہ گئے کیونکہ انہوں نے کبھی سلطان کو اتنی بڑی تعداد میں درود پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔
تب سلطان محمود نے فرمایا:
“میں نے علماء سے سنا تھا کہ یہ درود ایک مرتبہ پڑھنے سے دس ہزار درود کے برابر ہے۔ اسی لیے میں اسے تین مرتبہ سوتے وقت اور تین مرتبہ جاگنے کے بعد پڑھتا ہوں۔”
یہ سن کر سب کو حقیقت کا علم ہوا اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔
Durood-e-Mahmoodiya
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ مَا اخْتَلَفَ الْمَلَوَانِ وَتَعَاقَبَ الْعَصْرَانِ وَکَرَّ الْجَدِیْدَانِ وَاسْتَقْبَلَ الْفَرْقَدَانِ وَبَلِّغْ رُوْحَهٗ وَاَرْوَاحَ اَهْلِ بَیْتِهٖ مِنَّا التَّحِیَّةَ وَالسَّلَامُ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ عَلَیْهِ کَثِیْرًا
ترجمہ:
اے اللہ! ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پر رحمت نازل فرما، جب تک دن رات کا سلسلہ جاری رہے، اور زمانے گزرتے رہیں۔ ان کی روح اور اہلِ بیت تک ہماری طرف سے سلام پہنچا، اور ان پر ہمیشہ اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔
Is Waqia Se Milne Wale Sabaq
یہ واقعہ ہمیں کئی اہم باتیں سکھاتا ہے:
درود شریف پڑھنا ایک نہایت بابرکت عمل ہے
اللہ کے ہاں اخلاص اور نیت کی بڑی اہمیت ہے
علماء کی باتوں پر یقین اور عمل کرنا کامیابی کا راستہ ہے
ایک اچھا حکمران وہی ہوتا ہے جو عام انسان کی بات بھی توجہ سے سنے
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک چھوٹا عمل بھی اگر اخلاص سے کیا جائے تو بہت بڑا بن جاتا ہے۔
Follow me on Facebook. Zube
.png)