Shaddad Aur Jannat-e-Iram | Qaum-e-Aad Ka Ibratnaak Anjaam
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی بادشاہ نے اپنی بادشاہت، طاقت اور دولت کے نشے میں اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا تو اس کا انجام ہمیشہ ذلت اور تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔
ایسی ہی ایک عبرت ناک کہانی شدّاد اور اس کی قوم عاد کی ہے۔ وہ بادشاہ جس نے اپنی طاقت کے غرور میں آ کر خدائی کا دعویٰ کیا اور دنیا میں جنت بنانے کی کوشش کی۔
شدّاد نے واقعی ایسی جنت بنوائی کہ اسے دیکھ کر انسان کی آنکھیں تھک جائیں اور دل حیرت سے بھر جائے۔
لیکن تقدیر کا فیصلہ کچھ اور تھا۔
وہ اپنی بنائی ہوئی جنت میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ چند لمحے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا۔
پھر نہ صرف شدّاد بلکہ اس کی بنائی ہوئی مصنوعی جنت اور پوری قومِ عاد زمین کے نیچے دفن کر دی گئی۔
Qaum-e-Aad Ka Taaruf
شدّاد اس قوم سے تعلق رکھتا تھا جو اپنے زمانے کی دنیا کی سب سے طاقتور قوم سمجھی جاتی تھی، جسے قومِ عاد کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس جیسی طاقتور قوم نہ اس سے پہلے پیدا کی گئی اور نہ اس کے بعد۔
قومِ عاد احقاف کے علاقے میں آباد تھی۔ احقاف ایک ایسا خطہ تھا جہاں ریت کے بلند و بالا ٹیلے پائے جاتے تھے۔
یہ علاقہ آج کے یمن اور عمان کے درمیان واقع تھا۔
روایات کے مطابق یہ قوم ہزاروں سال پہلے وہاں آباد تھی اور جسمانی طور پر نہایت طاقتور تھی۔ ان کے قد بارہ سے پندرہ فٹ تک بتائے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر بے شمار نعمتیں نازل کی تھیں۔
انہیں سرسبز باغات، زرخیز زمینیں، میٹھا پانی، بے شمار جانور اور ہر طرح کی آسائشیں عطا کی گئی تھیں۔
لیکن جب نعمتوں کی فراوانی کے ساتھ شکر کی بجائے غرور آ جائے تو قومیں گمراہی کی طرف بڑھ جاتی ہیں۔
Hazrat Hood (A.S) Ki Dawat
قومِ عاد کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔
حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا اور فرمایا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔
لیکن قومِ عاد نے ان کی بات ماننے کے بجائے ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔
خاص طور پر ان کا بادشاہ شدّاد جو اپنی طاقت اور سلطنت کے غرور میں اندھا ہو چکا تھا۔
Shaddad Ka Takabbur
روایات میں آتا ہے کہ پہلے قومِ عاد پر شدید نامی بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے انتقال کے بعد شدّاد نے حکومت سنبھالی اور اس طرح وہ دنیا کی سب سے طاقتور قوم کا حکمران بن گیا۔
اس کی سلطنت یمن سے لے کر عراق تک پھیل چکی تھی اور بعض روایات کے مطابق ایران تک بھی اس کا اثر تھا۔
حضرت ہود علیہ السلام نے شدّاد کو بار بار اللہ کی طرف بلایا، مگر اس کے دل پر غرور کا پردہ پڑ چکا تھا۔
ایک دن حضرت ہود علیہ السلام شدّاد کے محل میں گئے۔
محل کی شان و شوکت، سونے چاندی کی سجاوٹ اور بادشاہت کا غرور ہر طرف نمایاں تھا۔
حضرت ہود علیہ السلام نے نرمی سے فرمایا:
اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو تمہیں جنت نصیب ہوگی۔
شدّاد نے پوچھا: جنت کیسی ہوتی ہے؟
حضرت ہود علیہ السلام نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کیا:
سونے اور چاندی کے محلات، دودھ اور شہد کی نہریں، خوبصورت باغات اور ہمیشہ کی زندگی۔
یہ سن کر شدّاد ہنس پڑا اور کہنے لگا:
“ایسی جنت تو میں دنیا میں بھی بنا سکتا ہوں۔”
Jannat-e-Iram Ki Tameer
یہیں سے شدّاد کے غرور اور کفر نے انتہا اختیار کر لی۔
اس نے اپنی سلطنت کے بہترین معمار اور کاریگر جمع کیے اور احقاف کے مقام ارم ذات العماد میں ایک عظیم الشان جنت بنوانا شروع کر دی۔
اس جنت میں سونے اور چاندی کی اینٹیں استعمال کی گئیں
ہیرے اور جواہرات لگائے گئے
دودھ، شہد اور پانی کی نہریں بہائی گئیں
دنیا بھر کے خوبصورت درخت اور پھول لگائے گئے
روایات کے مطابق اس شہر کی تعمیر کئی سال بلکہ بعض روایات کے مطابق صدیوں تک جاری رہی۔
شدّاد نے فیصلہ کیا تھا کہ جب تک یہ جنت مکمل نہیں ہو گی وہ اس میں قدم نہیں رکھے گا۔
Shaddad Ka Anjaam
آخر وہ دن آ گیا جب شدّاد اپنی فوج کے ساتھ اس مصنوعی جنت کو دیکھنے کے لیے روانہ ہوا۔
جب وہ اپنی فوج کے ساتھ جنت میں داخل ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آسمان سے ایک خوفناک چیخ لگائی۔
اس آواز کی شدت سے شدّاد اور اس کے تمام ساتھی وہیں ہلاک ہو گئے۔
شدّاد گھوڑے سے گر پڑا اور اسی لمحے اس کی روح قبض کر لی گئی۔
اس کی بنائی ہوئی جنت اور اس کا پورا لشکر زمین میں دھنس گیا اور عرب کے ریگستان میں دفن ہو گیا۔
Qaum-e-Aad Par Allah Ka Azaab
اس کے بعد بھی قومِ عاد نے توبہ نہ کی۔
اللہ تعالیٰ نے تین سال تک بارش روک لی جس سے شدید قحط پڑ گیا۔
پھر آسمان پر ایک سیاہ بادل ظاہر ہوا جسے وہ بارش کا بادل سمجھ کر خوش ہونے لگے۔
لیکن حقیقت میں وہ عذاب تھا۔
اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک خوفناک آندھی بھیجی جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی۔
یہ طوفان اتنا طاقتور تھا کہ لمبے قد کے لوگ کھجور کے اکھڑے ہوئے تنوں کی طرح زمین پر گرتے رہے۔
ان کے قلعے اور عمارتیں مٹی کے ڈھیر بن گئیں اور پوری قوم صفحۂ ہستی سے مٹ گئی۔
اس عذاب میں صرف حضرت ہود علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے چند لوگ ہی محفوظ رہے۔
Hasil-e-Ibrat
شدّاد اور قومِ عاد کا یہ واقعہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑی عبرت ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب انسان اپنی طاقت اور دولت پر غرور کرتا ہے اور اللہ کو بھول جاتا ہے تو اس کا انجام بھی شدّاد جیسا ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمیشہ عاجزی اور شکر کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں سیدھے راستے پر قائم رکھے۔
آمین۔
Follow me on Instagram, Zube
