Skip to main content

Malika Bilqis Ka Waqia

Malika Bilqis Ka Waqia

 

Yaman Ki Malika Aur Hazrat Sulaimanؑ Ka Qissa


Malika Bilqis


دنیا کی تاریخ میں بہت سی بااثر اور طاقتور خواتین گزری ہیں، مگر ملکہ بلقیس کا نام ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کا ذکر صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی نہیں بلکہ قرآنِ مجید میں بھی کیا گیا ہے۔


ملکہ بلقیس یمن کی مشہور سلطنت سبا کی حکمران تھیں۔ ان کی سلطنت دولت، طاقت اور ترقی کے لحاظ سے اپنے زمانے کی عظیم سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی۔ لیکن ملکہ بلقیس کی اصل عظمت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ حق کو پہچان کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتی ہیں۔


قرآن میں بیان کیا گیا ان کا قصہ ایمان، عقل اور ہدایت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔




Qaum-e-Saba Aur Unki Khushhaal Sarzameen


ملکہ بلقیس کا تعلق قوم سبا سے تھا جو جنوبی عرب یعنی موجودہ یمن میں آباد تھی۔ ان کا دارالحکومت مآرب تھا جو اپنے زمانے میں ایک خوشحال اور ترقی یافتہ شہر سمجھا جاتا تھا۔


قوم سبا کی ترقی کا ایک بڑا سبب سدِ مآرب تھا۔ یہ ایک عظیم بند تھا جس کی بدولت کھیتوں کو پانی ملتا اور پوری سرزمین سرسبز و شاداب رہتی تھی۔


قرآن کریم نے اس سرزمین کی خوشحالی کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:


> لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ



ترجمہ: یقیناً سبا کی بستی میں ایک نشانی تھی — دو باغ، ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔



Malika Bilqis Ka Takht Aur Hukumat


ملکہ بلقیس ایک نہایت ذہین اور سمجھدار حکمران تھیں۔ ان کا دربار شان و شوکت کا نمونہ تھا اور ان کے پاس ایک عظیم الشان تخت تھا جو سونے، جواہرات اور قیمتی پتھروں سے مزین تھا۔


ہدہد پرندے نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ان کے بارے میں یوں خبر دی:


> إِنِّي وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ




ترجمہ: میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اس قوم پر حکومت کرتی ہے، اسے ہر چیز دی گئی ہے اور اس کا ایک عظیم تخت ہے۔


لیکن اس قوم کی ایک بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ اللہ کے بجائے سورج کی عبادت کرتے تھے۔



Hudhud Aur Hazrat Sulaimanؑ Ka Khat


حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار معجزات عطا فرمائے تھے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ پرندوں اور جانوروں کی زبان سمجھ سکتے تھے۔


ایک دن جب حضرت سلیمانؑ نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا تو ہدہد پرندہ نظر نہ آیا۔ کچھ دیر بعد ہدہد واپس آیا اور اس نے سبا کی ملکہ اور اس کی قوم کے بارے میں حیران کن خبر دی۔


اس کے بعد حضرت سلیمانؑ نے ہدہد کے ذریعے ملکہ بلقیس کو ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا:


> بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ


Also read Qaum Saba Ka Waqia

ترجمہ: اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ مجھ پر سرکشی نہ کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس آ جاؤ۔



Malika Bilqis Ki Siyasi Danai


جب ملکہ بلقیس کو حضرت سلیمانؑ کا خط ملا تو انہوں نے فوراً کوئی جلد بازی نہیں کی بلکہ اپنے درباریوں کو جمع کر کے ان سے مشورہ طلب کیا۔


ان کے مشیروں نے جنگ کی تجویز دی، مگر ملکہ بلقیس نے بڑی حکمت سے فیصلہ کیا کہ پہلے ایک قیمتی تحفہ بھیج کر حضرت سلیمانؑ کا ردعمل دیکھا جائے۔


لیکن حضرت سلیمانؑ نے یہ تحائف واپس کر دیے اور واضح کر دیا کہ وہ دولت کے طالب نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے آئے ہیں۔



Takht-e-Bilqis Ka Mojiza


جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمانؑ کے دربار کی طرف روانہ ہوئیں تو حضرت سلیمانؑ نے اپنے درباریوں سے پوچھا کہ ان کے آنے سے پہلے ان کا تخت یہاں کون لا سکتا ہے۔


ایک جن نے کہا کہ وہ اسے دربار ختم ہونے سے پہلے لے آئے گا۔ لیکن ایک شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا کہ وہ اسے پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کر سکتا ہے۔


اور واقعی پلک جھپکتے ہی تخت حضرت سلیمانؑ کے سامنے موجود تھا۔ یہ اللہ کی قدرت کا ایک عظیم مظاہرہ تھا۔



Sheeshay Ka Mahal Aur Malika Bilqis Ka Iman


جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمانؑ کے دربار میں پہنچیں تو انہیں ایک ایسے محل میں لے جایا گیا جس کا فرش شفاف شیشے کا تھا اور اس کے نیچے پانی بہہ رہا تھا۔


ملکہ نے اسے پانی سمجھ کر اپنا دامن اٹھا لیا۔ تب حضرت سلیمانؑ نے بتایا کہ یہ شیشے کا صاف محل ہے۔


یہ منظر دیکھ کر ملکہ بلقیس کے دل پر حق واضح ہو گیا اور انہوں نے فوراً اللہ کی طرف رجوع کیا۔


> رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ




ترجمہ: اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے آگے سر تسلیم خم کرتی ہوں۔



Malika Bilqis Ke Qissay Se Milnay Walay Sabaq


1۔ حق کو قبول کرنے کی ہمت

ملکہ بلقیس نے جب سچائی کو پہچانا تو فوراً اسے قبول کر لیا۔


2۔ مشورے کی اہمیت

انہوں نے اہم فیصلوں میں اپنے مشیروں سے مشورہ کیا۔


3۔ عاجزی اور انکساری

طاقت اور دولت کے باوجود انہوں نے حق کے سامنے جھکنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔


4۔ اللہ کی قدرت

تخت بلقیس کا پلک جھپکتے ہی آ جانا اللہ کی بے مثال قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔


5۔ بسم اللہ کی برکت

حضرت سلیمانؑ کے خط کا آغاز بسم اللہ سے ہوا جو ہمیں ہر کام اللہ کے نام سے شروع کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔



Khulasa


ملکہ بلقیس کا قصہ قرآنِ کریم کے ان واقعات میں سے ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے سبق رکھتے ہیں۔ ایک طاقتور ملکہ جس کے پاس دنیا کی ہر نعمت موجود تھی، لیکن جب حق سامنے آیا تو اس نے عاجزی کے ساتھ اسے قبول کر لیا۔


یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دولت اور اقتدار میں نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت اور سچی ہدایت میں ہے۔


اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حق کو پہچاننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


Follow me on Facebook. Zube

Comments

Popular posts from this blog

Sultan Mehmood Ghaznavi RA Ka Waqia

Sultan Mehmood Ghaznavi RA Ka Waqia | Durood-e-Mahmoodiya Ki Fazilat سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ اسلامی تاریخ کے ایک عظیم حکمران گزرے ہیں، جن کا نام بہادری، عدل اور دین سے محبت کی وجہ سے آج بھی روشن ہے۔ آپ ۳۶۱ ہجری میں غزنی (موجودہ افغانستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سبکتگین ایک نامور سپہ سالار تھے، جنہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے ایک مضبوط سلطنت قائم کی۔ سلطان محمود نے ۳۸۸ ہجری میں حکومت سنبھالی اور طویل عرصہ حکمرانی کی۔ آپ نے برصغیر میں کئی مہمات کیں اور اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن آپ کی اصل پہچان صرف ایک فاتح کی نہیں بلکہ ایک نیک، عبادت گزار اور عاشقِ رسول ﷺ کی تھی۔ آپ کے دربار میں بڑے بڑے علماء اور دانشور موجود تھے، اور آپ علم و ادب کے بھی قدردان تھے۔ غرباء کی مدد کرنا اور عدل قائم رکھنا آپ کی زندگی کا اہم حصہ تھا۔ Durood-e-Mahmoodiya Kya Hai? سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ایک خاص درود شریف منسوب ہے جسے الصلوٰۃ المحمودیہ کہا جاتا ہے۔ اسے بعض علماء "دس ہزار درود" بھی کہتے ہیں کیونکہ روایت کے مطابق اس کا ایک مرتبہ پڑھنا دس ہزار م...

Ashab-e-Sabt Ka Waqia - Bani Israel Par Allah Ka Azaab

  Ashab-e-Sabt Ki Ibratnaak Kahani یہ ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت تھی۔ اللہ نے انہیں بھوک سے محفوظ رکھا، خوف سے بچایا اور دشمنوں سے نجات دی۔ ہر مشکل میں انہیں اللہ کی مدد کا احساس ہوتا تھا۔ لیکن کبھی کبھی انسان نعمتوں کی قدر کرنا بھول جاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو ایک چھوٹا سا امتحان دیا۔ امتحان بظاہر آسان تھا، مگر اصل میں ایمان اور صبر کی آزمائش تھا۔ لیکن اس قوم نے سوچا: “ہم اللہ کے حکم کو تو نہیں توڑیں گے… بس تھوڑی سی چالاکی سے اپنا فائدہ نکال لیں گے۔” انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہی چالاکی ان کی تباہی کا سبب بننے والی ہے۔ Samandar Ke Kinare Aabad Shehar حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی ایک جماعت سمندر کے کنارے ایک خوبصورت شہر ایلہ میں آباد تھی۔ یہ شہر نہایت دلکش تھا۔ سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں، لہروں کی آواز اور نرم دھوپ اس جگہ کو جنت جیسا بنا دیتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتیں عطا کر رکھی تھیں۔ وہ اللہ کو جانتے تھے، اس کے احکام سے واقف تھے اور عبادت بھی کرتے تھے۔ لیکن ان کے دلوں میں ایک کمزوری تھی۔ وہ وعد...

Shaddad Aur Jannat-e-Iram Ki Waqia

  Shaddad Aur Jannat-e-Iram | Qaum-e-Aad Ka Ibratnaak Anjaam دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی بادشاہ نے اپنی بادشاہت، طاقت اور دولت کے نشے میں اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا تو اس کا انجام ہمیشہ ذلت اور تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔ ایسی ہی ایک عبرت ناک کہانی شدّاد اور اس کی قوم عاد کی ہے۔ وہ بادشاہ جس نے اپنی طاقت کے غرور میں آ کر خدائی کا دعویٰ کیا اور دنیا میں جنت بنانے کی کوشش کی۔ شدّاد نے واقعی ایسی جنت بنوائی کہ اسے دیکھ کر انسان کی آنکھیں تھک جائیں اور دل حیرت سے بھر جائے۔ لیکن تقدیر کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ وہ اپنی بنائی ہوئی جنت میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ چند لمحے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا۔ پھر نہ صرف شدّاد بلکہ اس کی بنائی ہوئی مصنوعی جنت اور پوری قومِ عاد زمین کے نیچے دفن کر دی گئی۔ Qaum-e-Aad Ka Taaruf شدّاد اس قوم سے تعلق رکھتا تھا جو اپنے زمانے کی دنیا کی سب سے طاقتور قوم سمجھی جاتی تھی، جسے قومِ عاد کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس جیسی طاقتور قوم نہ اس سے پہلے پیدا کی گئی اور نہ اس کے بعد۔ قومِ عاد احقاف کے علاقے میں آباد تھی۔ احقاف ایک ایسا خطہ ...