Hazrat Saleh (A.S) Aur Allah Ki Oontni Ka Waqia
انسانی تاریخ میں کئی ایسی قومیں گزری ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتیں عطا کیں، لیکن انہوں نے ان نعمتوں کی قدر نہ کی۔ انہوں نے تکبر اور سرکشی اختیار کی، اپنے نبیوں کی باتوں کو جھٹلایا اور آخرکار عذابِ الٰہی کا شکار ہو گئیں۔ ایسی ہی ایک مشہور قوم قوم ثمود تھی۔
قرآن کریم میں قوم ثمود کا ذکر کئی مقامات پر ملتا ہے۔ ان کی داستان صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسانوں کے لیے ایک زبردست سبق ہے۔ یہ قوم طاقت، دولت اور ترقی میں بہت آگے تھی، لیکن غرور اور نافرمانی نے انہیں تباہی کے راستے پر ڈال دیا۔
Qaum Samood Kahan Abaad Thi?
قوم ثمود عرب کی ایک قدیم اور طاقتور قوم تھی جو حِجر نامی علاقے میں آباد تھی۔ یہ علاقہ حجاز اور شام کے درمیان واقع تھا۔ آج اسے مدائنِ صالح کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ موجودہ سعودی عرب میں واقع ہے۔
قرآن کریم میں اس علاقے کا ذکر الحِجر کے نام سے آیا ہے اور اسی نام سے ایک مکمل سورت بھی موجود ہے۔
قوم ثمود کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ پہاڑوں کو تراش کر شاندار مکانات بنایا کرتے تھے۔ ان کی تعمیرات اس قدر مضبوط اور خوبصورت تھیں کہ آج بھی مدائنِ صالح میں ان کے آثار موجود ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
"وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ"
ترجمہ: تم بڑی مہارت کے ساتھ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔
(الشعراء: 149)
یہ قوم زراعت، تجارت اور تعمیرات میں بہت ترقی یافتہ تھی اور ایک خوشحال زندگی گزار رہی تھی۔
Hazrat Saleh (A.S) Ki Ba'sat
جب قوم ثمود گمراہی میں حد سے آگے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے انہی میں سے ایک عظیم نبی کو مبعوث فرمایا جن کا نام حضرت صالح علیہ السلام تھا۔
حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم میں انتہائی معزز اور قابلِ اعتماد شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ نبوت ملنے سے پہلے بھی لوگ انہیں سچا اور امانت دار انسان سمجھتے تھے۔
لیکن جب انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلانا شروع کیا اور بت پرستی سے منع کیا تو قوم کے سردار ان کے مخالف ہو گئے۔
انہوں نے کہا:
"قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَٰذَا"
ترجمہ: اے صالح! اس سے پہلے تم ہم میں بڑے امید والے شخص تھے، کیا اب تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکتے ہو جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے؟
(ھود: 62)
Allah Ki Oontni – Aik Azeem Mojza
قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ واقعی اللہ کے نبی ہیں تو کوئی معجزہ دکھائیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک حیرت انگیز معجزہ ظاہر فرمایا۔ ایک عظیم اونٹنی پتھر سے نکل آئی۔ یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے ایک واضح نشانی تھی۔
حضرت صالح علیہ السلام نے قوم کو سختی سے خبردار کیا کہ اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اسے اللہ کی زمین میں آزادانہ چرنے دیا جائے۔
قرآن میں ارشاد ہے:
"وَيَا قَوْمِ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً"
ترجمہ: اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے، اسے اللہ کی زمین میں چرنے دو اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا۔
(ھود: 64)
یہ اونٹنی دراصل قوم کے لیے ایک امتحان بھی تھی۔
Oontni Ko Qatal Karna, Sarkashi Ki Inteha
لیکن غرور اور سرکشی میں ڈوبی ہوئی قوم ثمود نے اس واضح نشانی کو بھی قبول نہ کیا۔
انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور اپنی قوم کے ایک انتہائی بدبخت شخص کو تیار کیا۔ اس شخص نے ظلم اور بے رحمی کے ساتھ اللہ کی اونٹنی کو قتل کر دیا۔
قرآن کریم اس واقعے کو یوں بیان کرتا ہے:
"فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ"
ترجمہ: انہوں نے اونٹنی کو قتل کر دیا اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی۔
(الاعراف: 77)
یہ عمل دراصل اللہ کی کھلی نشانی کے خلاف بغاوت تھا۔
Teen Din Ki Mohlat Aur Azaab Ka Nuzool
جب اونٹنی کو قتل کر دیا گیا تو حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ اب تمہیں صرف تین دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس کے بعد اللہ کا عذاب آئے گا۔
یہ دراصل توبہ کا آخری موقع تھا، مگر قوم ثمود نے اپنی سرکشی جاری رکھی۔
روایات میں آتا ہے کہ ان تین دنوں میں ان کے چہرے بدلتے رہے:
پہلے دن زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ ہو گئے۔
Also read Firaun Aur Us Ka Anjaam
چوتھے دن صبح کے وقت ایک زبردست چیخ اور ہولناک آواز آئی جس نے پوری قوم کو ہلاک کر دیا۔
قرآن میں فرمایا گیا:
"فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ"
ترجمہ: پھر انہیں صبح کے وقت ایک زبردست آواز نے آ پکڑا۔
(الحجر: 83)
اس خوفناک عذاب نے پوری قوم کو لمحوں میں ختم کر دیا۔
Hazrat Saleh (A.S) Aur Momineen Ki Nijaat
جب عذاب آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو محفوظ رکھا۔
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کے انجام کو دیکھ کر فرمایا:
"يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي"
ترجمہ: اے میری قوم! میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیر خواہی کی تھی، لیکن تم نصیحت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔
(الاعراف: 79)
قرآن کی روشنی میں قوم ثمود کی بربادی کے چند اہم اسباب یہ تھے:
اللہ کے نبی کو جھٹلانا
اللہ کی نشانی کی توہین کرنا
تکبر اور غرور میں مبتلا ہونا
قوم کے سرداروں کی گمراہی
اللہ کی نعمتوں کی ناشکری
یہ تمام عوامل مل کر اس قوم کی تباہی کا سبب بنے۔
Madain Saleh, Qaum Samood Ke Aasaar
قوم ثمود کی بستی کے آثار آج بھی مدائنِ صالح میں موجود ہیں۔ یہاں پہاڑوں کو تراش کر بنائے گئے گھر اور قبریں آج بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔
یہ مقام اب یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل ہے۔
جب نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک کے موقع پر اس علاقے سے گزرے تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو ان کھنڈرات کو دیکھ کر عبرت حاصل کرنے کی ہدایت فرمائی۔
Qaum Samood Ke Waqia Se Milne Wale Asbaaq
قوم ثمود کا واقعہ ہمیں کئی اہم سبق دیتا ہے:
دنیاوی طاقت انسان کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی
تکبر اور سرکشی انسان کو تباہی تک لے جاتے ہیں
اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ضروری ہے
انبیاء کی تعلیمات انسان کی کامیابی کا راستہ ہیں
ایمان والے ہمیشہ اللہ کی حفاظت میں ہوتے ہیں
Khulasa
قوم ثمود ایک طاقتور اور ترقی یافتہ قوم تھی، لیکن انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی۔ انہوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا، اللہ کی نشانی کو تباہ کیا اور سرکشی میں حد سے آگے بڑھ گئے۔
ان کا انجام پوری انسانیت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ طاقت، دولت اور ترقی اس وقت تک فائدہ نہیں دیتی جب تک انسان اللہ کی اطاعت نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کا ذکر اس لیے کیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے سبق حاصل کریں اور گمراہی کے راستے سے بچیں۔
Follow me on Facebook. Zube
