Ashab-e-Sabt Ki Ibratnaak Kahani
یہ ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت تھی۔
اللہ نے انہیں بھوک سے محفوظ رکھا، خوف سے بچایا اور دشمنوں سے نجات دی۔
ہر مشکل میں انہیں اللہ کی مدد کا احساس ہوتا تھا۔
لیکن کبھی کبھی انسان نعمتوں کی قدر کرنا بھول جاتا ہے۔
پھر ایک وقت ایسا آیا جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو ایک چھوٹا سا امتحان دیا۔
امتحان بظاہر آسان تھا، مگر اصل میں ایمان اور صبر کی آزمائش تھا۔
لیکن اس قوم نے سوچا:
“ہم اللہ کے حکم کو تو نہیں توڑیں گے…
بس تھوڑی سی چالاکی سے اپنا فائدہ نکال لیں گے۔”
انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہی چالاکی ان کی تباہی کا سبب بننے والی ہے۔
Samandar Ke Kinare Aabad Shehar
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی ایک جماعت سمندر کے کنارے ایک خوبصورت شہر ایلہ میں آباد تھی۔
یہ شہر نہایت دلکش تھا۔
سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں، لہروں کی آواز اور نرم دھوپ اس جگہ کو جنت جیسا بنا دیتی تھیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتیں عطا کر رکھی تھیں۔
وہ اللہ کو جانتے تھے، اس کے احکام سے واقف تھے اور عبادت بھی کرتے تھے۔
لیکن ان کے دلوں میں ایک کمزوری تھی۔
وہ وعدہ تو کرتے تھے، مگر بعد میں اپنی سہولت کے مطابق اسے بدل دیتے تھے۔
Allah Ka Imtihaan
اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو آزمانے کے لیے ایک حکم دیا۔
ان پر سبت یعنی ہفتے کے دن کی پابندی لگا دی گئی۔
اللہ نے فرمایا:
“ہفتے کے دن اپنے کام چھوڑ دو، تجارت بند کر دو اور صرف میری عبادت کرو۔”
یہ حکم سن کر شہر میں مختلف باتیں ہونے لگیں۔
کچھ لوگوں نے کہا:
“یہ تو صرف ایک دن کی بات ہے، اللہ کے لیے رک جائیں گے۔”
لیکن کچھ لوگ ہنس کر بولے:
“جب سمندر مچھلیوں سے بھر جائے گا تب کیا کریں گے؟”
Ajeeb Imtihaan
پھر ایسا ہی ہونے لگا۔
جس دن شکار منع تھا، یعنی ہفتے کے دن، اسی دن سمندر مچھلیوں سے بھر جاتا۔
بڑی بڑی تازہ مچھلیاں کنارے کے قریب آ جاتیں۔
لیکن باقی دنوں میں وہ تقریباً غائب ہو جاتیں۔
یہ اللہ کا امتحان تھا۔
لوگ بے چین ہونے لگے۔
گھروں میں بحث شروع ہو گئی۔
کچھ لوگ کہتے:
“ہم اللہ کے حکم کی پابندی کریں گے۔”
مگر کچھ کے دلوں میں لالچ بڑھنے لگا۔
Shaitan Ki Chalaki
ایک رات کچھ لوگ بیٹھے سوچ رہے تھے۔
اچانک شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا۔
“اللہ نے صرف ہفتے کے دن شکار سے روکا ہے۔
اگر تم کوئی چالاکی کر لو تو کیا حرج ہے؟”
پھر ایک آدمی بولا:
“ہم ہفتے کے دن شکار نہیں کریں گے۔
بس مچھلیوں کو جال میں پھنسنے دیں گے۔”
دوسرے نے فوراً کہا:
“ہم سمندر کے کنارے نالیاں کھود دیتے ہیں۔
مچھلیاں خود ان میں آ جائیں گی
اور ہم اتوار کو انہیں نکال لیں گے۔”
لوگوں کو یہ منصوبہ بہت پسند آیا۔
Nek Logon Ki Fikar
لیکن اس قوم میں کچھ نیک لوگ بھی تھے۔
انہوں نے جب یہ سب دیکھا تو سخت پریشان ہو گئے۔
انہوں نے لوگوں کو سمجھایا:
“اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
اس کے حکم کے ساتھ چالاکی نہ کرو۔”
مگر گناہ کرنے والے لوگ ہنس پڑے۔
وہ بولے:
“ہم نے اللہ کا حکم نہیں توڑا۔
ہم تو صرف اپنی عقل استعمال کر رہے ہیں۔”
Shehar Teen Hisson Mein Bat Gaya
وقت کے ساتھ شہر کے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو گئے۔
ایک وہ لوگ تھے جو چالاکی سے مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔
دوسرے وہ نیک لوگ تھے جو انہیں مسلسل روکتے اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے تھے۔
اور تیسرے وہ لوگ تھے جو خاموش تھے۔
وہ نہ گناہ کو روک رہے تھے اور نہ نصیحت کر رہے تھے۔
بس تماشائی بنے ہوئے تھے۔
Azaab Ki Raat
پھر ایک رات آئی جب اللہ کی تنبیہ کا وقت ختم ہو گیا۔
شہر کی گلیاں خاموش تھیں۔
گناہگار لوگ پیٹ بھر کر سو گئے۔
اور اسی رات اللہ کا فیصلہ نازل ہوا۔
ایک آواز گونجی:
Also read Qaum Samood
“ذلیل اور رسوا بندر بن جاؤ۔”
پھر اچانک ان کے جسم بدلنے لگے۔
چہرے بگڑ گئے، ہاتھ پاؤں پنجوں میں بدل گئے اور جسم پر بال نکل آئے۔
وہ چیخنے لگے، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
Subah Ka Haulnaak Manzar
جب صبح ہوئی تو شہر میں عجیب خاموشی تھی۔
نیک لوگ حیران تھے کہ گناہگار لوگ کہاں گئے۔
جب وہ دیوار پر چڑھ کر دیکھنے لگے تو نیچے انسان نہیں بلکہ بندر تھے۔
وہی کپڑے، وہی جگہ… مگر انسانوں کی جگہ بندر۔
یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔
اللہ نے ہفتے کے دن شکار کرنے والوں کو بندر بنا دیا تھا۔
روایات کے مطابق وہ لوگ تین دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکے اور پھر ہلاک ہو گئے۔
Aaj Ke Liye Ibrat
اصحابِ سبت کا اصل جرم صرف مچھلیاں پکڑنا نہیں تھا۔
ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے اللہ کے حکم کے ساتھ چالاکی کرنے کی کوشش کی۔
آج بھی انسان اکثر یہی کرتا ہے۔
ہم سود کو کاروبار کا نام دے دیتے ہیں۔
رشوت کو تحفہ کہہ دیتے ہیں۔
اور جھوٹ کو مارکیٹنگ کا طریقہ سمجھ لیتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیں…
اللہ الفاظ کو نہیں، نیتوں کو دیکھتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں ہم بھی اپنی چالاکیوں میں اصحابِ سبت کے راستے پر تو نہیں چل رہے۔
Follow me on Facebook. Zube

Comments
Post a Comment