Skip to main content

Ashab-e-Sabt Ka Waqia - Bani Israel Par Allah Ka Azaab

 

Bani Israel Par Allah Ka Azaab

Ashab-e-Sabt Ki Ibratnaak Kahani


یہ ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت تھی۔


اللہ نے انہیں بھوک سے محفوظ رکھا، خوف سے بچایا اور دشمنوں سے نجات دی۔

ہر مشکل میں انہیں اللہ کی مدد کا احساس ہوتا تھا۔


لیکن کبھی کبھی انسان نعمتوں کی قدر کرنا بھول جاتا ہے۔


پھر ایک وقت ایسا آیا جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو ایک چھوٹا سا امتحان دیا۔


امتحان بظاہر آسان تھا، مگر اصل میں ایمان اور صبر کی آزمائش تھا۔


لیکن اس قوم نے سوچا:


“ہم اللہ کے حکم کو تو نہیں توڑیں گے…

بس تھوڑی سی چالاکی سے اپنا فائدہ نکال لیں گے۔”


انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہی چالاکی ان کی تباہی کا سبب بننے والی ہے۔


Samandar Ke Kinare Aabad Shehar


حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی ایک جماعت سمندر کے کنارے ایک خوبصورت شہر ایلہ میں آباد تھی۔


یہ شہر نہایت دلکش تھا۔


سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں، لہروں کی آواز اور نرم دھوپ اس جگہ کو جنت جیسا بنا دیتی تھیں۔


اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتیں عطا کر رکھی تھیں۔


وہ اللہ کو جانتے تھے، اس کے احکام سے واقف تھے اور عبادت بھی کرتے تھے۔


لیکن ان کے دلوں میں ایک کمزوری تھی۔


وہ وعدہ تو کرتے تھے، مگر بعد میں اپنی سہولت کے مطابق اسے بدل دیتے تھے۔


Allah Ka Imtihaan


اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو آزمانے کے لیے ایک حکم دیا۔


ان پر سبت یعنی ہفتے کے دن کی پابندی لگا دی گئی۔


اللہ نے فرمایا:


“ہفتے کے دن اپنے کام چھوڑ دو، تجارت بند کر دو اور صرف میری عبادت کرو۔”


یہ حکم سن کر شہر میں مختلف باتیں ہونے لگیں۔


کچھ لوگوں نے کہا:


“یہ تو صرف ایک دن کی بات ہے، اللہ کے لیے رک جائیں گے۔”


لیکن کچھ لوگ ہنس کر بولے:


“جب سمندر مچھلیوں سے بھر جائے گا تب کیا کریں گے؟”


Ajeeb Imtihaan


پھر ایسا ہی ہونے لگا۔


جس دن شکار منع تھا، یعنی ہفتے کے دن، اسی دن سمندر مچھلیوں سے بھر جاتا۔


بڑی بڑی تازہ مچھلیاں کنارے کے قریب آ جاتیں۔


لیکن باقی دنوں میں وہ تقریباً غائب ہو جاتیں۔


یہ اللہ کا امتحان تھا۔


لوگ بے چین ہونے لگے۔


گھروں میں بحث شروع ہو گئی۔


کچھ لوگ کہتے:


“ہم اللہ کے حکم کی پابندی کریں گے۔”


مگر کچھ کے دلوں میں لالچ بڑھنے لگا۔


Shaitan Ki Chalaki


ایک رات کچھ لوگ بیٹھے سوچ رہے تھے۔


اچانک شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا۔


“اللہ نے صرف ہفتے کے دن شکار سے روکا ہے۔

اگر تم کوئی چالاکی کر لو تو کیا حرج ہے؟”


پھر ایک آدمی بولا:


“ہم ہفتے کے دن شکار نہیں کریں گے۔

بس مچھلیوں کو جال میں پھنسنے دیں گے۔”


دوسرے نے فوراً کہا:


“ہم سمندر کے کنارے نالیاں کھود دیتے ہیں۔

مچھلیاں خود ان میں آ جائیں گی

اور ہم اتوار کو انہیں نکال لیں گے۔”


لوگوں کو یہ منصوبہ بہت پسند آیا۔


Nek Logon Ki Fikar


لیکن اس قوم میں کچھ نیک لوگ بھی تھے۔


انہوں نے جب یہ سب دیکھا تو سخت پریشان ہو گئے۔


انہوں نے لوگوں کو سمجھایا:


“اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

اس کے حکم کے ساتھ چالاکی نہ کرو۔”


مگر گناہ کرنے والے لوگ ہنس پڑے۔


وہ بولے:


“ہم نے اللہ کا حکم نہیں توڑا۔

ہم تو صرف اپنی عقل استعمال کر رہے ہیں۔”


Shehar Teen Hisson Mein Bat Gaya


وقت کے ساتھ شہر کے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو گئے۔


ایک وہ لوگ تھے جو چالاکی سے مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔


دوسرے وہ نیک لوگ تھے جو انہیں مسلسل روکتے اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے تھے۔


اور تیسرے وہ لوگ تھے جو خاموش تھے۔


وہ نہ گناہ کو روک رہے تھے اور نہ نصیحت کر رہے تھے۔


بس تماشائی بنے ہوئے تھے۔


Azaab Ki Raat


پھر ایک رات آئی جب اللہ کی تنبیہ کا وقت ختم ہو گیا۔


شہر کی گلیاں خاموش تھیں۔


گناہگار لوگ پیٹ بھر کر سو گئے۔


اور اسی رات اللہ کا فیصلہ نازل ہوا۔


ایک آواز گونجی:


Also read Qaum Samood


“ذلیل اور رسوا بندر بن جاؤ۔”


پھر اچانک ان کے جسم بدلنے لگے۔


چہرے بگڑ گئے، ہاتھ پاؤں پنجوں میں بدل گئے اور جسم پر بال نکل آئے۔


وہ چیخنے لگے، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔


Subah Ka Haulnaak Manzar


جب صبح ہوئی تو شہر میں عجیب خاموشی تھی۔


نیک لوگ حیران تھے کہ گناہگار لوگ کہاں گئے۔


جب وہ دیوار پر چڑھ کر دیکھنے لگے تو نیچے انسان نہیں بلکہ بندر تھے۔


وہی کپڑے، وہی جگہ… مگر انسانوں کی جگہ بندر۔


یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔


اللہ نے ہفتے کے دن شکار کرنے والوں کو بندر بنا دیا تھا۔


روایات کے مطابق وہ لوگ تین دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکے اور پھر ہلاک ہو گئے۔


Aaj Ke Liye Ibrat


اصحابِ سبت کا اصل جرم صرف مچھلیاں پکڑنا نہیں تھا۔


ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے اللہ کے حکم کے ساتھ چالاکی کرنے کی کوشش کی۔


آج بھی انسان اکثر یہی کرتا ہے۔


ہم سود کو کاروبار کا نام دے دیتے ہیں۔


رشوت کو تحفہ کہہ دیتے ہیں۔


اور جھوٹ کو مارکیٹنگ کا طریقہ سمجھ لیتے ہیں۔


لیکن یاد رکھیں…


اللہ الفاظ کو نہیں، نیتوں کو دیکھتا ہے۔


یہ واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں ہم بھی اپنی چالاکیوں میں اصحابِ سبت کے راستے پر تو نہیں چل رہے۔


Follow me on Facebook. Zube

Comments

Popular posts from this blog

Sultan Mehmood Ghaznavi RA Ka Waqia

Sultan Mehmood Ghaznavi RA Ka Waqia | Durood-e-Mahmoodiya Ki Fazilat سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ اسلامی تاریخ کے ایک عظیم حکمران گزرے ہیں، جن کا نام بہادری، عدل اور دین سے محبت کی وجہ سے آج بھی روشن ہے۔ آپ ۳۶۱ ہجری میں غزنی (موجودہ افغانستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سبکتگین ایک نامور سپہ سالار تھے، جنہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے ایک مضبوط سلطنت قائم کی۔ سلطان محمود نے ۳۸۸ ہجری میں حکومت سنبھالی اور طویل عرصہ حکمرانی کی۔ آپ نے برصغیر میں کئی مہمات کیں اور اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن آپ کی اصل پہچان صرف ایک فاتح کی نہیں بلکہ ایک نیک، عبادت گزار اور عاشقِ رسول ﷺ کی تھی۔ آپ کے دربار میں بڑے بڑے علماء اور دانشور موجود تھے، اور آپ علم و ادب کے بھی قدردان تھے۔ غرباء کی مدد کرنا اور عدل قائم رکھنا آپ کی زندگی کا اہم حصہ تھا۔ Durood-e-Mahmoodiya Kya Hai? سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ایک خاص درود شریف منسوب ہے جسے الصلوٰۃ المحمودیہ کہا جاتا ہے۔ اسے بعض علماء "دس ہزار درود" بھی کہتے ہیں کیونکہ روایت کے مطابق اس کا ایک مرتبہ پڑھنا دس ہزار م...

Shaddad Aur Jannat-e-Iram Ki Waqia

  Shaddad Aur Jannat-e-Iram | Qaum-e-Aad Ka Ibratnaak Anjaam دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی بادشاہ نے اپنی بادشاہت، طاقت اور دولت کے نشے میں اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا تو اس کا انجام ہمیشہ ذلت اور تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔ ایسی ہی ایک عبرت ناک کہانی شدّاد اور اس کی قوم عاد کی ہے۔ وہ بادشاہ جس نے اپنی طاقت کے غرور میں آ کر خدائی کا دعویٰ کیا اور دنیا میں جنت بنانے کی کوشش کی۔ شدّاد نے واقعی ایسی جنت بنوائی کہ اسے دیکھ کر انسان کی آنکھیں تھک جائیں اور دل حیرت سے بھر جائے۔ لیکن تقدیر کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ وہ اپنی بنائی ہوئی جنت میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ چند لمحے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا۔ پھر نہ صرف شدّاد بلکہ اس کی بنائی ہوئی مصنوعی جنت اور پوری قومِ عاد زمین کے نیچے دفن کر دی گئی۔ Qaum-e-Aad Ka Taaruf شدّاد اس قوم سے تعلق رکھتا تھا جو اپنے زمانے کی دنیا کی سب سے طاقتور قوم سمجھی جاتی تھی، جسے قومِ عاد کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس جیسی طاقتور قوم نہ اس سے پہلے پیدا کی گئی اور نہ اس کے بعد۔ قومِ عاد احقاف کے علاقے میں آباد تھی۔ احقاف ایک ایسا خطہ ...